اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی کاوشوں سے تقریباً 9 سال کی طویل جدائی کے بعد شاہین بی بی اپنے خاندان سے دوبارہ مل گئیں۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے برسوں کے انتظار، بے یقینی اور جدائی کو خوشیوں اور سکون میں بدل دیا۔
شاہین بی بی، زوجہ امانت، کو جون 2018 میں کراچی کے علاقے میٹھادر سے ریسکیو کیا گیا تھا۔ اُس وقت اُن کی ذہنی حالت درست نہیں تھی اور وہ اپنے گھر، خاندان یا رہائش کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد معلومات فراہم نہیں کر سکتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کے اہلِ خانہ تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے انہیں شیلٹر ہوم میں رکھا گیا، جہاں وہ کئی سال تک اپنے خاندان سے دور رہیں۔
میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی اپنے قومی مشن کے تحت ملک بھر کے شیلٹر ہومز کا دورہ کرتا ہے تاکہ وہاں موجود لاوارث، گمشدہ اور غیر شناخت شدہ افراد کی معلومات اکٹھی کر کے اُنہیں اُن کے خاندانوں سے ملایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں میرا پیارا ٹیم نے ایدھی سینٹر نارتھ کراچی کا دورہ کیا اور شاہین بی بی کا تفصیلی انٹرویو کیا۔
ٹیم نے صرف رسمی سوالات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نفسیاتی کونسلنگ اور متعدد تفصیلی نشستوں کے ذریعے اُن کی یادداشت میں موجود معمولی سے معمولی معلومات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ انٹرویوز کے دوران ٹیم نے اُن کی ہر بات کو غور سے سنا اور مختلف معلومات کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کی۔
اسی دوران شاہین بی بی نے ایک بار "راوی ریان" کا ذکر کیا۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا اشارہ تھا، مگر میرا پیارا ٹیم نے اسے ایک اہم سراغ کے طور پر لیا اور اسی بنیاد پر فیملی ٹریسنگ کا عمل شروع کر دیا۔
مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ راوی ریان مریدکے میں واقع ایک معروف صنعتی مل کا نام ہے۔ اس اہم سراغ کی بنیاد پر ٹیم نے اس مل کے اردگرد واقع علاقوں میں تلاش کا دائرہ وسیع کیا اور مقامی ذرائع کی مدد سے خاندان تک پہنچنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
شاہین بی بی کی تصاویر مقامی افراد اور مختلف ذرائع تک پہنچائی گئیں، جبکہ انٹرویوز سے حاصل ہونے والی محدود خاندانی معلومات کو بھی استعمال کیا گیا۔ مسلسل محنت، مقامی تعاون اور تفصیلی تحقیقات کے نتیجے میں بالآخر تقریباً 8 سال بعد اُن کے خاندان کا سراغ لگا لیا گیا۔
بعد ازاں مکمل تصدیق اور ضروری قانونی کارروائی کے بعد شاہین بی بی کو اُن کے بیٹے دلشیر کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ ملاقات انتہائی جذباتی تھی۔ برسوں بعد ایک ماں اپنے بیٹے سے دوبارہ ملی اور ایک ایسا رشتہ جو وقت اور حالات کی وجہ سے بچھڑ گیا تھا، دوبارہ جڑ گیا۔
شاہین بی بی کی داستان اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض اوقات ایک معمولی سی نشانی بھی برسوں سے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملا سکتی ہے۔ یہ کامیابی میرا پیارا کی اُن مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے جو ملک بھر میں گمشدہ اور کمزور حالات کا شکار افراد کو اُن کے خاندانوں سے ملانے کے لیے جاری ہیں۔
ہر کامیاب ری یونیفیکیشن صرف ایک فرد کی گھر واپسی نہیں ہوتی بلکہ ایک خاندان کی خوشیوں کی بحالی اور امید کی ایک نئی کرن بھی ہوتی ہے۔
آپ گمشدہ بچے عرفان کی ایک اور ری یونیفیکیشن داستان پڑھ سکتے ہیں، جو 6 سال کی جدائی کے بعد اپنے خاندان سے دوبارہ ملا۔