میرا پیارا / کارکردگی

15 سال بعد جمیلہ کی اپنے خاندان سے ری یونیفیکیشن داستان

15 سال بعد جمیلہ کی اپنے خاندان سے ری یونیفیکیشن داستان

Monday, June 29, 2026 05:02 AM

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے تحت کام کرنے والے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی کاوشوں سے 15 سال کی طویل جدائی کے بعد جمیلہ اپنی والدہ اور بھائی سے دوبارہ  مل گئ۔ یہ ایک ایسا جذباتی لمحہ تھا جس نے برسوں کے انتظار، دعاؤں اور امیدوں کو خوشیوں میں بدل دیا۔

جمیلہ ایک معصوم بچی ہے جو بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ وہ 2011 میں اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ اپنی معذوری کی وجہ سے وہ نہ اپنا نام، نہ گھر کا پتہ اور نہ ہی اپنے خاندان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کر سکتی تھی۔

لاوارث حالت میں ملنے کے بعد ایک شہری نے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ایدھی شیلٹر ہوم پہنچا دیا، جہاں اس کی حفاظت، دیکھ بھال اور پرورش کا انتظام کیا گیا۔ جمیلہ نے اپنی زندگی کے اگلے 15 سال وہیں گزارے، جبکہ دوسری جانب اس کا خاندان برسوں تک اس کی جدائی کا دکھ سہتا رہا۔

جولائی 2024 میں میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد ملک بھر میں گمشدہ اورلاوارث بچوں،بزرگوں اور خصوصی افراد کو اُن کے خاندانوں سے دوبارہ ملانا ہے۔

اسی قومی مشن کے تحت میرا پیارا ٹیمیں پاکستان بھر کے شیلٹر ہومز کا باقاعدگی سے دورہ کرتی ہیں، وہاں موجود لاوارث افراد کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں، اُن کے ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرتی ہیں اور مختصر انٹرویوز ریکارڈ کر کے انہیں میرا پیارا کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرتی ہیں تاکہ اگر کوئی اپنے بچھڑے ہوئے عزیز کو پہچان لے تو ری یونیفیکیشن ممکن بنائی جا سکے۔

اسی سلسلے میں میرا پیارا ٹیم نے جمیلہ کا بھی انٹرویو کیا۔ چونکہ وہ بولنے اور سننے سے محروم تھی، اس لیے وہ اپنے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہ کر سکی۔ اس کے باوجود ٹیم نے اس کی ویڈیو اپنے آفیشل فیس بک پیج پر شیئر کی تاکہ عوام کی مدد سے اس کے اہلِ خانہ تک پہنچا جا سکے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہی ویڈیو جمیلہ کے ایک سابق پڑوسی تک پہنچی، جس نے اسے فوراً پہچان لیا اور میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔ اس نے جمیلہ کے والدین اور خاندان کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں، جس کی مدد سے اس کے اہلِ خانہ تک رسائی ممکن ہو سکی۔

بعد ازاں مکمل تصدیق، قانونی کارروائی اور ضروری مراحل مکمل کیے گئے، جس کے بعد جمیلہ کو بحفاظت اس کی والدہ اور بھائی کے حوالے کر دیا گیا۔

یہ ملاقات انتہائی جذباتی تھی۔ پندرہ سال بعد ایک ماں نے اپنی بیٹی کو دوبارہ گلے لگایا، جبکہ اس کا بھائی برسوں بعد اپنی بہن کو اپنے سامنے پا کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ یہ صرف ایک ری یونیفیکیشن نہیں بلکہ ایک بکھرے ہوئے خاندان کی خوشیوں کی بحالی تھی۔

جمیلہ کی داستان اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ عوامی تعاون گمشدہ افراد کی ری یونیفیکیشن میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بعض اوقات صرف ایک شخص کی پہچان برسوں سے بچھڑے ہوئے خاندان کو دوبارہ ملا سکتی ہے۔

میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی جدید ٹیکنالوجی، شیلٹر ہومز کے دوروں، ڈیجیٹل ریکارڈ، سوشل میڈیا آگاہی مہمات اور عوامی تعاون کے ذریعے ملک بھر میں گمشدہ بچوں اور لاوارث افراد کو اُن کے خاندانوں سے ملانے کے اپنے مشن پر مسلسل کام کر رہا ہے۔

ہر کامیاب ری یونیفیکیشن اس امید کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ چاہے جدائی کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اپنے پیاروں سے دوبارہ ملنا ہمیشہ ممکن ہے۔

گمشدہ بچی اریلا کی ایک اور جذباتی ری یونیفیکیشن داستان پڑھیں، جو 12 سال کی طویل جدائی کے بعد میرا پیارا کی کاوشوں سے اپنے خاندان سے دوبارہ ملی۔