میرا پیارا / کارکردگی

12 سال بعد اریلا کی اپنے خاندان سے ری یونیفیکیشن داستان

12 سال بعد اریلا کی اپنے خاندان سے ری یونیفیکیشن داستان

Friday, June 26, 2026 04:49 AM

12 سال کی طویل جدائی کے بعد اریلا بالآخر اپنے خاندان سے دوبارہ مل گئ۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس میں خوشی، سکون، شکرگزاری اور جذبات اس قدر شامل تھے کہ انہیں الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔

اریلا صرف 12 سال کی عمر میں اختر کالونی، کراچی سے گم ہو گئی تھی۔ وہ اتنی کم عمر تھی کہ نہ اپنے گھر کا مکمل پتہ یاد رکھ سکی، نہ کسی فون نمبر یا ایسی معلومات کو محفوظ رکھ سکی جو اسے دوبارہ اپنے خاندان تک پہنچا سکتیں۔ یہی وجہ تھی کہ برسوں تک اس کے اہلِ خانہ کا سراغ لگانا ممکن نہ ہو سکا۔

بعد ازاں اسے ایدھی فاؤنڈیشن کی تحویل میں رکھا گیا، جہاں اسے تحفظ، رہائش اور دیکھ بھال فراہم کی گئی۔ مگر اگرچہ وہ محفوظ تھی، اس کا دل ہمیشہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور اپنے گھر کی یاد میں بے قرار رہتا تھا۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک دو نہیں بلکہ پورے بارہ سال بیت گئے۔ اس دوران اریلا نے اپنے خاندان سے دور چوبیس عیدیں گزاریں۔ ہر عید پر شاید یہی امید اس کے دل میں زندہ رہی کہ ایک دن وہ دوبارہ اپنے پیاروں کے درمیان ہوگی۔

میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی اپنے قومی مشن کے تحت ملک بھر کے شیلٹر ہومز اور فلاحی اداروں کا باقاعدگی سے دورہ کرتا ہے تاکہ وہاں موجود لاوارث اور غیر شناخت شدہ بچوں کی معلومات جمع کر کے انہیں ان کے خاندانوں سے ملایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں میرا پیارا ٹیم نے اریلا کا بھی تفصیلی انٹرویو کیا۔ انٹرویو کے آغاز ہی سے اریلا جذباتی اور پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ برسوں کی خاموش جدائی اس کے چہرے پر نمایاں تھی۔ گفتگو کے دوران اس نے ایک ایسا سوال کیا جو ٹیم کے لیے بھی ناقابلِ فراموش بن گیا۔

اس نے دھیمی آواز میں پوچھا:

"انکل، کیا میرے والدین مجھے مل جائیں گے؟"

میرا پیارا ٹیم نے اسے حوصلہ دیا اور پھر پوری توجہ کے ساتھ اس کی یادداشت کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت شروع کی۔ طویل اور مسلسل گفتگو کے دوران ماضی کی کچھ دھندلی یادیں سامنے آنے لگیں۔ کچھ نشانیاں، کچھ مقامات اور کچھ ایسی باتیں جو بظاہر معمولی تھیں مگر خاندان تک پہنچنے کی ایک اہم کڑی بن سکتی تھیں۔

آخرکار انہی معلومات کی بنیاد پر ٹیم اس نتیجے تک پہنچی کہ اریلا کا تعلق ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے کالواں سے ہو سکتا ہے، جو کراچی سے سینکڑوں کلومیٹر دور واقع ہے۔ میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر کالواں گاؤں کی مقامی قیادت اور نمبردار سے رابطہ کیا۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اریلا کا خاندان کئی سال پہلے وہاں سے کسی اور شہر منتقل ہو چکا ہے۔ لیکن تلاش کا سفر یہیں ختم نہیں ہوا۔ مسلسل کوششوں اور رابطوں کے بعد بالآخر اریلا کے والد تک رسائی حاصل کر لی گئی۔

مزید تصدیق کے لیے ایک ویڈیو کال کا اہتمام کیا گیا۔ جیسے ہی کال کا رابطہ قائم ہوا، اریلا نے اپنے والد کو فوراً پہچان لیا۔ نہ کوئی ہچکچاہٹ تھی اور نہ کوئی شک۔ اور پھر برسوں کی جدائی کے باوجود اس کے لبوں پر پہلا سوال اپنی چھوٹی بہن "کائنات" کے بارے میں تھا۔ یہ وہ نام تھا جسے اریلا نے بارہ سال، چوبیس عیدوں اور بے شمار تنہا لمحوں کے باوجود اپنے دل سے کبھی نہیں بھلایا تھا۔ یہی لمحہ اس بات کا سب سے مضبوط ثبوت تھا کہ خاندان کی یادیں اور محبت وقت گزرنے کے باوجود کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

بعد ازاں مکمل تصدیق، قانونی کارروائی اور تمام ضروری مراحل مکمل کیے گئے، جس کے بعد اریلا کو بحفاظت اس کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔ یوں بارہ سال کی جدائی کا خاتمہ ہوا۔ ایک ایسی داستان جو ایک گمشدہ بچی کے دکھ سے شروع ہوئی تھی، اپنے خاندان کے ساتھ خوشگوار ری یونیفیکیشن پر اختتام پذیر ہوئی۔ اریلا کی داستان ان بے شمار کامیاب ری یونیفیکیشنز میں سے ایک ہے جو میرا پیارا کے مشن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ہر روز میرا پیارا گمشدہ اور لاوارث بچوں کی شناخت، ٹریسنگ اور ری یونیفیکیشن کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ برسوں سے منتظر خاندانوں کو دوبارہ ان کے پیاروں سے ملایا جا سکے۔

اریلا کی واپسی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ چاہے وقت کتنا ہی گزر جائے، ایک بچے اور اس کے خاندان کے درمیان محبت اور تعلق کا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

شبانہ کوثر کی ایک اور جذباتی ری یونیفیکیشن داستان پڑھیں، جو 15 سال کی طویل جدائی کے بعد میرا پیارا کی کاوشوں سے اپنے خاندان سے دوبارہ جا ملیں۔