اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی کاوشوں سے 15 سال کی طویل جدائی کے بعد شبانہ کوثر اپنے خاندان سے دوبارہ مل گئیں۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے برسوں کے انتظار، بے یقینی اور جدائی کو خوشیوں اور سکون میں بدل دیا۔
شبانہ کوثر کئی سال تک اپنے خاندان سے دور ایک گمنام زندگی گزارنے پر مجبور رہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اُن کے اہلِ خانہ کی تلاش مشکل ہوتی گئی، مگر قسمت نے اُنہیں دوبارہ اپنے پیاروں سے ملانے کا راستہ بنا دیا۔
شبانہ کوثر اپنے خاندان سے بچھڑنے کے بعد لاہور کے علاقے رائیونڈ سے ملی تھیں۔ اُس وقت وہ اپنے گھر، خاندان یا رہائش کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھیں۔ اُن کی حالت اور دستیاب معلومات کی کمی کے باعث اہلِ خانہ تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے انہیں 09 ستمبر 2016 کو ایدھی ہوم کراچی منتقل کیا گیا، جہاں اُن کی نگہداشت کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعد ازاں 03 جون 2022 کو انہیں ایدھی ہوم ملتان منتقل کر دیا گیا۔ کئی سال گزرنے کے باوجود اُن کے خاندان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی اپنے قومی مشن کے تحت ملک بھر کے شیلٹر ہومز کا دورہ کرتا ہے تاکہ وہاں موجود لاوارث، گمشدہ اور غیر شناخت شدہ بچوں اور افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے اور انہیں اُن کے خاندانوں سے ملایا جا سکے۔
اسی سلسلے میں میرا پیارا ٹیم نے ایدھی ہوم ملتان کا دورہ کیا اور شبانہ کوثر کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اُن کی دستیاب معلومات کو ڈیجیٹل ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا اور اُن کا کیس میرا پیارا کے مرکزی ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا۔
بعد ازاں اُن کی مختصر ویڈیو اور معلومات میرا پیارا کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئیں تاکہ اگر کوئی رشتہ دار، دوست یا جاننے والا انہیں پہچان لے تو ری یونیفیکیشن ممکن ہو سکے۔
اور پھر وہ لمحہ آ گیا جس نے برسوں کی جدائی ختم کر دی۔
شبانہ کوثر کے بھائی عبدالشکور نے میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر یہ ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو دیکھتے ہی انہوں نے فوراً اپنی بہن کو پہچان لیا اور میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ ویڈیو میں موجود خاتون اُن کی بہن شبانہ کوثر، دختر رحمت علی ہیں، جو 2011 سے اپنے خاندان سے جدا تھیں۔
اس اطلاع کے بعد میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر خاندان سے رابطہ کیا اور مکمل تصدیقی عمل شروع کیا۔ تمام دستیاب معلومات، خاندانی تفصیلات اور ضروری قانونی و انتظامی مراحل مکمل کیے گئے تاکہ شناخت کی درستگی یقینی بنائی جا سکے۔
مکمل تصدیق کے بعد شبانہ کوثر کو بحفاظت اُن کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ ملاقات انتہائی جذباتی تھی۔ 15 سال بعد ایک بہن اپنے بھائی سے ملی، ایک بیٹی اپنے گھر واپس پہنچی اور ایک خاندان کی برسوں پرانی محرومی خوشیوں میں بدل گئی۔ خوشی کے آنسو، دعائیں اور شکرگزاری اس لمحے کی حقیقی ترجمانی تھے۔
یہ کامیابی میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کے اُس مشن کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) گمشدہ بچوں، لاوارث افراد، بزرگ شہریوں اور کمزور حالات کا شکار افراد کو اُن کے خاندانوں سے ملانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
شیلٹر ہومز کے دوروں، ڈیجیٹل ریکارڈز، سوشل میڈیا آگاہی مہمات، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی تعاون کے ذریعے میرا پیارا پاکستان بھر میں خاندانوں کو دوبارہ جوڑنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
شبانہ کوثر کی ری یونیفیکیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ چاہے جدائی کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، امید کا چراغ روشن رہے تو بچھڑے ہوئے رشتے دوبارہ مل سکتے ہیں۔
شاہین بی بی کی ایک اور جذباتی ری یونیفیکیشن داستان پڑھیں، جو 8 سال کی طویل جدائی کے بعد میرا پیارا کی کاوشوں سے اپنے خاندان سے دوبارہ ملیں۔