میرا پیارا / کارکردگی

6 سال کی جدائی کے بعد عرفان کی اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کی مکمل داستان

6 سال کی جدائی کے بعد عرفان کی اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کی مکمل داستان

Friday, June 12, 2026 07:03 AM

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی کاوشوں سے ایک اور بچھڑا ہوا بچہ اپنے خاندان سے دوبارہ مل گیا۔ چھ سال کی طویل جدائی کے بعد عرفان کی اپنے والدین سے ملاقات ایک ایسا لمحہ تھا جس نے برسوں کے انتظار، دعاؤں اور امیدوں کو حقیقت میں بدل دیا۔

عرفان اپریل 2020 میں ضلع راولپنڈی سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ اُس وقت وہ اتنا کم عمر تھا کہ نہ اپنا مکمل نام بتا سکتا تھا اور نہ ہی اپنے گھر کا پتہ یا خاندان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کر سکتا تھا۔ اس وجہ سے اُس کے اہلِ خانہ تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔

تحفظ اور بہتر نگہداشت کے لیے 16 اپریل 2020 کو اُسے ایدھی ہوم اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں اُسے ایدھی ہوم ملتان منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ دیگر لاوارث اور گمشدہ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر رہا۔

دوسری جانب، عرفان کے والدین اپنے بچے کی تلاش میں بے شمار دروازے کھٹکھٹاتے رہے۔ وقت گزرتا گیا، سال بیتتے گئے، لیکن ایک ماں باپ کے دل میں اپنے بچے کی واپسی کی امید کبھی ختم نہ ہوئی۔

اس کیس میں اہم پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب میرا پیارا ملتان ٹیم نے اپنے قومی مشن کے تحت ایدھی ہوم ملتان کا دورہ کیا۔ میرا پیارا کا مقصد ملک بھر میں موجود لاوارث بچوں کو اُن کے خاندانوں سے ملانا ہے۔ اسی سلسلے میں ٹیم نے ایدھی ہوم میں موجود بچوں کا تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کیا، اُن کی تصاویر اور معلومات محفوظ کیں اور مختصر انٹرویوز بھی ریکارڈ کیے۔

بعد ازاں ان بچوں کے علیحدہ علیحدہ کیسز بنائے گئے اور اُن کی معلومات میرا پیارا کے مرکزی ڈیجیٹل سسٹم میں شامل کی گئیں۔ ہر بچے کی شناخت ممکن بنانے کے لیے اُن کے ویڈیوز اور معلومات میرا پیارا کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئیں تاکہ اگر کوئی رشتہ دار، دوست یا جاننے والا انہیں پہچان لے تو ری یونیفیکیشن ممکن ہو سکے۔

عرفان بھی انہی بچوں میں شامل تھا جن کا انٹرویو ریکارڈ کیا گیا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔

چند ہی دنوں بعد عرفان کی ویڈیو اُس کے والد محمد زمان تک پہنچ گئی۔ ویڈیو دیکھتے ہی انہوں نے فوراً اپنے بیٹے کو پہچان لیا اور میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اُن کا بیٹا عرفان ہے جو اپریل 2020 سے لاپتہ تھا۔

اس اطلاع کے بعد میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر ٹریسنگ اور تصدیقی عمل شروع کیا۔ خاندان سے تفصیلی معلومات حاصل کی گئیں اور تمام دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ مکمل تصدیق، قانونی کارروائی اور ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد عرفان کو بحفاظت اُس کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔

یہ ملاقات جذبات سے بھرپور تھی۔ چھ سال بعد ایک ماں نے اپنے بیٹے کو دوبارہ گلے لگایا، ایک باپ نے اپنے کھوئے ہوئے بچے کو واپس پایا، اور ایک خاندان جو برسوں سے نامکمل تھا، دوبارہ مکمل ہو گیا۔

یہ کامیابی صرف ایک بچے کی اپنے خاندان تک واپسی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، عوامی تعاون اور مسلسل محنت کے ذریعے برسوں پرانے بچھڑنے کے واقعات بھی خوشگوار انجام تک پہنچ سکتے ہیں۔

میرا پیارا کا باقاعدہ آغاز جولائی 2024 میں ہوا اور مختصر عرصے میں اس نے گمشدہ اور لاوارث بچوں کی شناخت اور ری یونیفیکیشن کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ شیلٹر ہومز کے دوروں، ڈیجیٹل ریکارڈنگ، سوشل میڈیا آگاہی مہمات اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے میرا پیارا مسلسل بچوں کو اُن کے خاندانوں سے ملا رہا ہے۔

میرا پیارا کی انہی مؤثر کاوشوں کی بدولت اسے عالمی سطح پر بھی غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اپنے قیام کے دو سال مکمل ہونے سے پہلے ہی میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کو WSIS Champion Project کے طور پر عالمی اعزاز حاصل ہوا اور اسے دنیا کے بہترین 5 ای گورنمنٹ منصوبوں میں شامل کیا گیا۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور اُن کی بحالی کے لیے کی جانے والی کاوشیں عالمی سطح پر بھی تسلیم کی جا رہی ہیں۔

عرفان کی داستان اُن ہزاروں خاندانوں کے لیے امید کا پیغام ہے جو آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ میرا پیارا اسی عزم کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے کہ کوئی بھی بچہ اپنے خاندان سے جدا نہ رہے 
اور ہر ممکن کوشش کے ذریعے اُسے اُس کے پیاروں تک پہنچایا جا سکے۔

آپ 35 سال کی طویل جدائی کے بعد اپنے خاندان سے دوبارہ ملنے والے رب نواز کی جذباتی اور متاثر کن داستان بھی پڑھ سکتے ہیں-