اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی مسلسل کاوشوں سے 35 سال کی طویل جدائی کے بعد رب نواز اپنے خاندان سے دوبارہ مل گیا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے برسوں سے منتظر ایک خاندان کی زندگی میں خوشیاں، سکون اور امید واپس لوٹا دی۔
رب نواز ولد اللہ دتہ ایک خصوصی ضروریات کے حامل فرد ہیں جو تقریباً 35 سال قبل اپنے خاندان سے بچھڑ گئے تھے۔ وقت گزرتا گیا، سال دہائیوں میں بدل گئے، مگر اُن کے اہلِ خانہ کے دلوں میں اپنے پیارے کی واپسی کی امید کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہوئی۔
25 فروری 2024 کو رب نواز کو ایدھی فاؤنڈیشن ویلج سپر ہائی وے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں اُنہیں رہائش، تحفظ اور دیکھ بھال فراہم کی گئی۔ کئی برسوں تک وہ اپنے خاندان سے دور رہے اور اُن کی شناخت یا ورثاء تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
میرا پیارا کے قومی مشن کا بنیادی مقصد گمشدہ و لاوارث افراد کو اُن کے خاندانوں سے دوبارہ ملانا ہے۔ اسی مقصد کے تحت میرا پیارا ٹیم نے پنجاب سے کراچی کا سفر کیا اور مختلف شیلٹر ہومز اور فلاحی اداروں کا دورہ کیا، جن میں ایدھی فاؤنڈیشن بھی شامل تھا۔
دورانِ وزٹ، ٹیم نے وہاں موجود لاوارث افراد کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کیا، اُن کی تصاویر محفوظ کیں، دستیاب معلومات کو دستاویزی شکل دی اور مختصر انٹرویوز بھی ریکارڈ کیے۔ بعد ازاں یہ تمام معلومات میرا پیارا کے سینٹرل ڈیجیٹل ڈیش بورڈ میں شامل کی گئیں، جہاں ہر فرد کا علیحدہ کیس بنایا گیا اور اُن کے اہلِ خانہ کی تلاش کا باقاعدہ عمل شروع کیا گیا۔
اس مہم کے تحت ہر کیس کے لیے بینرز تیار کیے گئے اور مختصر ویڈیوز میرا پیارا کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر کہیں کوئی رشتہ دار، دوست، پڑوسی یا جاننے والا ان افراد کو پہچان لے تو اُن کی شناخت اور ری یونیفیکیشن ممکن بنائی جا سکے۔
رب نواز بھی انہی افراد میں شامل تھے جن کا ریکارڈ مرتب کیا گیا اور اُن کی معلومات عوام تک پہنچائی گئیں۔
اسی دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب محمد جمشید نامی ایک پڑوسی نے میرا پیارا کی سوشل میڈیا مہم کے دوران رب نواز کی تصویر اور معلومات دیکھیں۔ انہوں نے فوراً انہیں پہچان لیا اور میرا پیارا ہیلپ لائن پر رابطہ کر کے ٹیم کو اہم معلومات فراہم کیں۔
اس اطلاع کے بعد میرا پیارا ٹیم نے مزید تحقیقات اور تصدیقی عمل شروع کیا۔ رب نواز کی اہلیہ اقبال مائی سے رابطہ کیا گیا، جنہوں نے بھی اُن کی شناخت کی تصدیق کی اور مزید معلومات فراہم کیں۔
تمام شواہد، دستاویزات اور معلومات کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد رب نواز کی شناخت کامیابی سے ثابت ہو گئی۔ بعد ازاں تمام ضروری قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل کیے گئے اور انہیں بحفاظت اُن کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔
35 سال بعد اپنے پیارے کو دوبارہ دیکھنا خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا باعث تھا۔ یہ صرف ایک فرد کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے خاندان کی تکمیل تھی جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے اپنے پیارے کی راہ دیکھ رہا تھا۔
یہ کامیابی میرا پیارا کے اُس وسیع مشن کی عکاسی کرتی ہے جس کا آغاز جولائی 2024 میں کیا گیا۔ شیلٹر ہومز کے دوروں، ڈیجیٹل ریکارڈز، سوشل میڈیا آگاہی مہمات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے میرا پیارا مسلسل ایسے افراد اور بچوں کو اُن کے خاندانوں سے ملا رہا ہے جو برسوں سے اپنے پیاروں سے جدا ہیں۔
میرا پیارا کی انہی مؤثر کاوشوں کی بدولت اسے عالمی سطح پر بھی نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی۔ اپنے قیام کے دو سال مکمل ہونے سے پہلے ہی میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کو WSIS Champion Project کے طور پر عالمی اعزاز حاصل ہوا اور اسے دنیا کے بہترین 5 ای گورنمنٹ منصوبوں میں شامل کیا گیا۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں بچوں اور کمزور افراد کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
رب نواز کی ری یونیفیکیشن اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ وقت چاہے کتنا ہی گزر جائے، امید کا چراغ روشن رہے تو بچھڑے ہوئے رشتے دوبارہ مل سکتے ہیں۔ میرا پیارا اسی عزم کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے کہ کوئی بھی لاوارث، گمشدہ یا کمزور فرد اپنے خاندان سے محروم نہ رہے اور ہر ممکن کوشش کے ذریعے اُسے اُس کے پیاروں تک پہنچایا جا سکے۔
آپ ایک اور متاثر کن کامیابی کی داستان بھی پڑھ سکتے ہیں، جس میں لاپتہ بچہ لالی ، 5 سال کی طویل جدائی کے بعد میرا پیارا کی کاوشوں سے اپنے خاندان سے جا ملا۔
واللہ المستعان