چودہ سال... ایک باپ کے لیے یہ صرف وقت نہیں تھا، بلکہ انتظار، دعا، امید اور اپنے بیٹے کی یاد میں گزرا ہوا ایک طویل سفر تھا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی مسلسل کاوشوں سے عبدالصمد بالآخر چودہ سال کی طویل جدائی کے بعد اپنے والد اور خاندان سے دوبارہ مل گیا۔ یہ ری یونیفیکیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر امید زندہ رہے اور معاشرہ ساتھ دے تو برسوں سے بچھڑے ہوئے رشتے بھی دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔
عبدالصمد کا تعلق ضلع قصور کی تحصیل چونیاں سے تھا۔ تقریباً چودہ سال قبل وہ اپنے خاندان سے بچھڑ گیا تھا۔ دوسری جانب اس کے والد بشارت احمد نے اپنے بیٹے کی تلاش کبھی ترک نہیں کی۔ وقت گزرتا گیا، حالات بدلتے رہے، لیکن ایک باپ کے دل میں اپنے بیٹے سے دوبارہ ملنے کی امید ہمیشہ زندہ رہی۔
جولائی 2024 میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کا آغاز کیا، جس کا مقصد ملک بھر میں گمشدہ بچوں، لاوارث افراد اور دیگر کمزور حالات کا شکار لوگوں کو اُن کے خاندانوں سے دوبارہ ملانا ہے۔ اسی قومی مشن کے تحت میرا پیارا ٹیمیں پاکستان بھر کے شیلٹر ہومز کا باقاعدگی سے دورہ کرتی ہیں، وہاں موجود لاوارث افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں، ان کے مختصر انٹرویوز ریکارڈ کرتی ہیں اور انہیں ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کا حصہ بناتی ہیں تاکہ ان کے اہلِ خانہ تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
ہر ریکارڈ کی جانے والی ویڈیو دراصل کسی خاندان کے لیے امید کا ایک نیا موقع ہوتی ہے۔
اسی سلسلے میں عبدالصمد کا انٹرویو بھی ریکارڈ کیا گیا اور میرا پیارا کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا گیا۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی کے لیے اس ویڈیو کو پروموٹ بھی کیا گیا تاکہ اگر کوئی اسے پہچانتا ہو تو میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کر سکے۔
اللہ تعالیٰ نے اسی ویڈیو کو اس خاندان کی خوشیوں کا ذریعہ بنا دیا۔
یہ ویڈیو سعودی عرب میں مقیم عبدالصمد کے والد بشارت احمد تک پہنچی۔ جیسے ہی انہوں نے ویڈیو دیکھی، انہوں نے فوراً اپنے بیٹے کو پہچان لیا۔ برسوں کے انتظار کے بعد امید ایک حقیقت میں بدلتی نظر آئی اور انہوں نے فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔
اس کے بعد میرا پیارا ٹیم نے خاندان کی مکمل ٹریسنگ، دستاویزات کی جانچ، شناخت کی تصدیق اور تمام قانونی کارروائی مکمل کی۔ تمام مراحل کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد عبدالصمد کو بحفاظت اس کے والد اور خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ ملاقات انتہائی جذباتی تھی۔ چودہ سال بعد ایک باپ نے اپنے بیٹے کو دوبارہ گلے لگایا۔ برسوں کا انتظار، دعائیں اور آنسو ایک ہی لمحے میں خوشیوں میں بدل گئے، اور ایک بچھڑا ہوا خاندان دوبارہ مکمل ہو گیا۔
عبدالصمد کی یہ ری یونیفیکیشن اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال، جدید ٹیکنالوجی، عوامی تعاون اور مسلسل فیلڈ ورک برسوں سے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملا سکتے ہیں۔
آج بھی میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی اسی جذبے کے ساتھ ملک بھر میں اپنے مشن پر کام کر رہا ہے تاکہ کوئی بھی گمشدہ بچہ یا لاوارث فرد ہمیشہ کے لیے اپنے خاندان سے جدا نہ رہے، اور ہر خاندان کو اپنے پیاروں سے دوبارہ ملنے کی امید مل سکے۔
ساجدہ کی ایک اور جذباتی ری یونیفیکیشن داستان پڑھیں، جو 12 سال کی طویل جدائی کے بعد میرا پیارا کی کاوشوں سے اپنے خاندان سے دوبارہ ملیں۔