میرا پیارا / کارکردگی

17 سال بعد ثمینہ لال خان کی ری یونیفیکیشن کی داستان

17 سال بعد ثمینہ لال خان کی ری یونیفیکیشن کی داستان

Monday, July 20, 2026 07:31 AM

سترہ سال بعد انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور ثمینہ لال خان بالآخر اپنے خاندان سے دوبارہ مل گئیں۔ یہ جذباتی ری یونیفیکیشن اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اگر امید زندہ رہے اور مسلسل کوشش جاری رکھی جائے تو برسوں سے بچھڑے ہوئے رشتے بھی دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔ یہ کامیابی پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے تحت کام کرنے والے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کی مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

ثمینہ لال خان، جو ایک سپیشل خاتون ہیں، سال 2009 میں اسلام آباد سے لاوارث حالت میں ملیں۔ اُس وقت وہ نہ اپنا نام بتا سکتی تھیں، نہ اپنے گھر کا پتہ، اور نہ ہی اپنے خاندان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کر سکتی تھیں۔ شناخت نہ ہونے کی وجہ سے اُن کے اہلِ خانہ تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

بعد ازاں اُنہیں حفاظت اور مناسب دیکھ بھال کے لیے ایدھی ہوم کراچی منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ کئی برس تک مقیم رہیں۔ دوسری جانب اُن کا خاندان بھی برسوں تک اُن کی تلاش میں رہا، مگر کوئی سراغ نہ مل سکا۔

جولائی 2024 میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کا آغاز کیا، جس کا مقصد ملک بھر میں گمشدہ بچوں، لاوارث افراد اور دیگر کمزور حالات کا شکار لوگوں کو اُن کے خاندانوں سے دوبارہ ملانا ہے۔ اسی قومی مشن کے تحت میرا پیارا ٹیمیں مختلف شیلٹر ہومز کا دورہ کرتی ہیں، وہاں موجود لاوارث افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں، تفصیلی انٹرویوز ریکارڈ کرتی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اُن کے اہلِ خانہ کی تلاش کا عمل شروع کرتی ہیں۔

اسی سلسلے میں میرا پیارا ٹیم نے ایدھی ہوم کراچی کا دورہ کیا، ثمینہ لال خان کے کیس کا تفصیلی جائزہ لیا اور ان کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ابتدا میں وہ کوئی واضح معلومات فراہم نہ کر سکیں، لیکن مسلسل کونسلنگ اور صبر کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے صرف ایک لفظ بتایا — "کہوٹہ"۔

یہی ایک لفظ اُن کی ری یونیفیکیشن کا سب سے اہم سراغ ثابت ہوا۔

میرا پیارا ٹیم نے فوراً راولپنڈی کے علاقے کہوٹہ میں فیملی ٹریسنگ کا آغاز کیا۔ اتفاق سے اسی علاقے میں ٹیم پہلے بھی ایک ری یونیفیکیشن کیس پر کام کر چکی تھی، جس کی وجہ سے مقامی افراد سے دوبارہ رابطہ قائم کیا گیا۔ مقامی معلومات اور مسلسل فیلڈ ورک کی مدد سے نئے سراغ ملتے گئے اور بالآخر ثمینہ لال خان کے خاندان تک رسائی ممکن ہو گئی۔

رابطہ کرنے پر اُن کے اہلِ خانہ نے فوراً انہیں اپنی بہن کے طور پر پہچان لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ثمینہ لال خان گزشتہ 17 سال سے لاپتہ تھیں اور پورا خاندان آج تک اُن کی واپسی کا منتظر تھا۔

تمام ضروری قانونی کارروائی، شناخت کی تصدیق اور دیگر مراحل مکمل ہونے کے بعد ثمینہ لال خان کو بحفاظت اُن کے بھائی کے حوالے کر دیا گیا۔

یہ ملاقات انتہائی جذباتی تھی۔ سترہ سال بعد بہن اور بھائی دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے تھے۔ خوشی کے آنسو، دعائیں اور شکرگزاری نے اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔ یہ صرف ایک ری یونیفیکیشن نہیں تھی بلکہ ایک ایسے خاندان کی خوشیوں کی واپسی تھی جس نے کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑا۔

ثمینہ لال خان کی یہ کامیاب ری یونیفیکیشن اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ بعض اوقات ایک معمولی سا سراغ بھی برسوں سے بچھڑے ہوئے خاندان کو دوبارہ ملا سکتا ہے۔ میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی جدید ٹیکنالوجی، فیلڈ ورک، عوامی تعاون اور مسلسل محنت کے ذریعے آج بھی اسی قومی مشن پر کام کر رہا ہے تاکہ ہر گمشدہ اور لاوارث فرد کو اُس کے خاندان سے دوبارہ ملایا جا سکے۔

عبدالصمد کی ایک اور جذباتی ری یونیفیکیشن داستان پڑھیں، جو 14 سال کی طویل جدائی کے بعد میرا پیارا کی کاوشوں سے اپنے خاندان سے دوبارہ جا ملا۔