میرا پیارا / کارکردگی

18 برس بعد صابر اپنے اہلِ خانہ تک پہنچ گیا — ایک دل کو چھو لینے والی داستان

18 برس بعد صابر اپنے اہلِ خانہ تک پہنچ گیا — ایک دل کو چھو لینے والی داستان

Saturday, November 15, 2025 05:51 AM

18طویل برس… دعاؤں، انتظار اور امید سے بھرے وہ سال جن میں صابر ایاز خان کے اہلِ خانہ ہر دن ایک معجزے کے منتظر رہے۔ بنوں سے تعلق رکھنے والے خصوصی فرد صابر ایک دن گھر سے نکلے اور راستہ بھول گئے۔ لاعلمی اور الجھن میں وہ دور دراز علاقوں سے ہوتے ہوئے ملتان جا پہنچے، مگر نہ گھر کا پتہ یاد تھا اور نہ کسی سے رابطے کی سکت۔ ایک ہمدرد شہری نے انہیں دیکھ کر مدد کی اور نجی نگہداشت مرکز پہنچایا، بعد ازاں انہیں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ منتقل کر دیا گیا جہاں وہ برسوں محفوظ تو رہے، مگر اپنے ماضی اور خاندان سے کٹے رہے۔

ادھر بنوں میں اُن کا خاندان تلاش میں سرگرداں رہا ،رشتہ داروں سے رابطے، شہروں کے چکر، اور ہر ممکن کوشش کے باوجود کوئی سراغ نہ ملا، مگر امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا۔

بالآخر یہ انتظار اُس وقت ختم ہوا جب پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت کام کرنے والی میرا پیارا ٹیم نے صابر کے کیس پر کام شروع کیا۔ محدود معلومات کی بنیاد پر ان کا انٹرویو ویڈیو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، خاص طور پر بنوں اور کوہاٹ کے علاقوں میں۔

قدرت نے اپنا رنگ دکھایا۔ صابر کے بھائی کی نظر یہ ویڈیو پر پڑی، اور ایک نظر میں اپنے گمشدہ بھائی کو پہچان لیا۔ فوری رابطہ، تصدیقی مراحل اور ادارہ جاتی تعاون کے بعد آج، 18 برس بعد، صابر اپنے خاندان کی محبت اور اپنائیت میں واپس آ گئے۔ایک ایسا لمحہ جس میں آنسو بھی تھے، سکون بھی، اور برسوں کی دعاؤں کی قبولیت بھی۔

میرا پیارا، جو 26 جولائی 2024 کو پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت قائم ہوا، آج پاکستان کا سب سے بڑا چائلڈ سیفٹی اور ری یونیفیکیشن مرکز بن چکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور قومی سطح کے تعاون کے ذریعے ہزاروں گمشدہ بچوں، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کو اُن کے اہلِ خانہ تک پہنچایا جا چکا ہےاور یہ سفر امید کو حقیقت میں بدلنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔