الحمدللہ، 28 سال بعد عاطف کا اپنے خاندان سے ملنا امید اور یقین کی روشن مثال ہے۔ عاطف جو 1998 میں کم عمری میں بچھڑ گیا تھا، بالآخر اپنے پیاروں تک پہنچ گیا۔ یہ جذباتی لمحہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی انتھک محنت، ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی برسوں بعد بھی خاندانوں کو جوڑ سکتی ہے۔
عاطف کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ 1998 میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ لاہور آیا جہاں وہ بچھڑ گیا۔ اس کے والدین بولنے اورسننے سے محروم تھے، جس کے باعث مدد حاصل کرنا اور درست اطلاع دینا ممکن نہ ہو سکا۔ یوں عاطف اپنے گھر والوں تک نہ پہنچ سکا۔
ملنے کے بعد ایک نیک دل شخص نے اسے SOS ویلج میں داخل کروایا جہاں اسے تعلیم، دیکھ بھال اور سہارا ملا۔ 18 سال کی عمر میں ایک شہری نے اسے گود لے لیا، مگر اپنے اصل خاندان کو تلاش کرنے کی خواہش ہمیشہ دل میں رہی۔
کئی برس بعد عاطف نے خود میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔ اسے صرف اتنا یاد تھا کہ اس کے والد نمبر پلیٹس بناتے تھے اور اس کی ٹانگ میں پیدائشی مسئلہ تھا۔ ٹیم نے اس کی بچپن کی تصویر اور معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔
اللہ کے کرم سے یہ پوسٹ سعودی عرب تک پہنچی جہاں اس کے بھائی محمد وقاص نے اسے پہچان لیا۔ تصدیق کے بعد دونوں بھائیوں کا رابطہ ممکن ہوا۔ 28 برس بعد یہ لمحہ آنسوؤں، حیرت اور شکرگزاری سے بھرپور تھا۔
میرا پیارا کا مشن جاری ہے۔ اب بھی 1,867 لاوارث بچوں کا ڈیٹا موجود ہے جن کے خاندانوں کی تلاش جاری ہے۔ آپ کا ایک شیئر کسی بچے کو اس کے پیاروں تک پہنچا سکتا ہے۔