کئی عرصے کی جدائی کے بعد حکمت نامی ایک افغان بچہ بالآخر اپنے خاندان سے جا ملا. ایک ایسا جذباتی اور خوشی بھرا لمحہ جو میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے، جو پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے وژن کے تحت کام کر رہا ہے۔
حکمت پاکستان میں کہیں گم ہو گیا تھا اور ایک لاوارث حالت میں پایا گیا۔ ایک نیک دل شخص نے اس کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے اسے ایدھی سینٹر اسلام آباد منتقل کر دیا، جہاں اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کا انتظام کیا گیا۔ وہ اپنے ملک اور خاندان سے دور ایک شیلٹر میں زندگی گزار رہا تھا۔
جولائی 2024 میں میرا پیارا کا قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد گمشدہ اور لاوارث بچوں کو ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملانا ہے۔ اس مقصد کے تحت ملک بھر میں ایک مہم شروع کی گئی، جس میں مختلف شیلٹر ہومز میں موجود بچوں کی معلومات اکٹھی کی گئیں، ان کے انٹرویوز کیے گئے اور تمام ڈیٹا کو ایک مرکزی نظام میں محفوظ کیا گیا۔
حکمت بھی انہی بچوں میں شامل تھا۔ اس نے اپنے انٹرویو میں اپنا نام حکمت بتایا اور اپنے گھر کا تعلق افغانستان سے بتایا۔ یہ اہم معلومات سامنے آنے پر میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر کوئٹہ میں موجود افغانستان کے سفارت خانے سے رابطہ کیا۔
سفارت خانے نے حکمت کا انٹرویو افغانستان میں سوشل میڈیا اور مختلف کمیونٹیز میں شیئر کروایا۔ اللہ کے کرم سے یہ ویڈیو اس کے خاندان تک پہنچ گئی۔ اس کے چچا نے ویڈیو دیکھی اور فوراً اسے پہچان لیا۔
مکمل تصدیق اور قانونی کارروائی کے بعد میرا پیارا ٹیم نے متعلقہ اداروں اور سفارت خانے کے ساتھ مل کر حکمت کو بحفاظت افغانستان بھجوا دیا، جہاں وہ اپنے خاندان سے جا ملا۔
یہ کامیاب ملن بین الاقوامی تعاون، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کی ایک روشن مثال ہے۔
ایسی کامیابیوں کے باعث میرا پیارا کو عالمی سطح پر ڈبلیو ایس آئی ایس فورم 2026 میں ٹاپ بیس حکومتی منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے، جو ایک بڑا اعزاز ہے۔
میرا پیارا کا مشن جاری ہے تاکہ ہر بچہ، چاہے کسی بھی ملک کا ہو، اپنے خاندان تک واپس پہنچ سکے۔
آپ ایک اور متاثر کن کامیابی کی داستان بھی پڑھ سکتے ہیں، جس میں لاپتہ بچی انم، 19 سال کی طویل جدائی کے بعد میرا پیارا کی کاوشوں سے اپنے خاندان سے جا ملی۔