الحمدللہ، طویل انتظار کے بعد ایک اور دل کو چھو لینے والا لمحہ نصیب ہوا، جب 16 سال سے بچھڑی والدہ گلناز اپنے خاندان تک پہنچ گئیں۔ یہ خوشی میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی کوششوں سے ممکن ہوئی، جس نے برسوں کے غم کو امید میں بدل دیا۔
یہ واقعہ 2009 کا ہے، جب قصور سے تعلق رکھنے والی ایک خصوصی خاتون گلناز گم ہو گئیں۔ ذہنی حالت کے باعث وہ اپنا پتہ یا خاندانی تفصیلات بتانے سے قاصر تھیں۔ ملتان میں تنہا پائے جانے پر ایک شہری نے مدد کر کے انہیں ایدھی سینٹر ملتان پہنچایا، بعدازاں بہتر دیکھ بھال کے لیے ایدھی ہوم کراچی منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ برسوں اپنے پیاروں تک پہنچنے کی امید میں رہیں۔
ادھر ان کا خاندان ہر ممکن جگہ تلاش کرتا رہا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ امید مدھم پڑ گئی، حتیٰ کہ بچوں نے سمجھ لیا کہ شاید ان کی والدہ اب زندہ نہیں رہیں۔
میرا پیارا، جو پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا منصوبہ اور پاکستان کا بڑا چائلڈ سیفٹی مرکز ہے، گمشدہ اور لاوارث بچوں، بزرگوں اور خصوصی افراد کو اُن کے خاندانوں تک پہنچانے کے لیے کام کرتا ہے۔ اسی سلسلے میں ٹیم نے مختلف اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کر کے شناختی ویڈیوز شیئر کیں۔ انہی میں سے ایک ویڈیو گلناز کی بیٹی تک پہنچی، جس نے فوراً اپنی والدہ کو پہچان لیا اور جذباتی انداز میں رابطہ کیا۔
ایدھی فاؤنڈیشن اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے تصدیقی عمل مکمل ہوا، اور بالآخر 16 سال بعد ایک ماں اپنے بچوں تک پہنچ گئی۔ یہ لمحہ ماں کی ممتا، صبر اور دعا کی قبولیت کی خوبصورت مثال ہے۔
میرا پیارا دن رات کام کر رہا ہے تاکہ کوئی بھی بچہ، بزرگ یا خصوصی فرد اپنے پیاروں سے جدا نہ رہے۔ ٹیکنالوجی، عوامی آگاہی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے امیدیں بحال کی جا رہی ہیں۔
ان شاء اللہ، مزید خاندان بھی ایسی ہی خوشیوں سے ہمکنار ہوں گے۔
واللہ المستعان