اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی کاوشوں سے چھ سال کی طویل جدائی کے بعد ایک گمشدہ بچے کو اُس کے خاندان سے ملا دیا گیا۔
عرفان نامی ایک کمسن بچہ لاوارث حالت میں اسلام آباد سے ملا۔ اُس وقت وہ اپنا نام، گھر کا پتہ یا اپنے خاندان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھا، جس کے باعث اُس کے اہلِ خانہ تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے اُسے ایدھی ہوم اسلام آباد منتقل کیا گیا، اور بعد ازاں اُسے ایدھی ہوم ملتان منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ دیگر لاوارث بچوں کے ساتھ رہائش پذیر رہا۔
دوسری جانب، اُس کے اہلِ خانہ چھ سال تک کرب اور بے یقینی کا شکار رہے، مگر امید اور دعا کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
اس کیس میں اہم پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب میرا پیارا ملتان ٹیم نے اپنے فیلڈ وزٹس کے دوران ایدھی ہوم ملتان کا دورہ کیا۔ ٹیم نے عرفان کا مختصر انٹرویو ریکارڈ کیا اور اُس کی بتائی گئی معلومات کو محفوظ کیا۔ بعد ازاں اس ویڈیو کو میرا پیارا کے آفیشل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بالخصوص فیس بک پیج پر شیئر کیا گیا اور زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے اسے پروموٹ بھی کیا گیا۔
یہ ویڈیو مختلف علاقوں میں پہنچتے ہوئے بالآخر عرفان کے اہلِ خانہ تک پہنچی۔ جیسے ہی اُس کی والدہ نے ویڈیو دیکھی، انہوں نے فوراً اپنے بیٹے کو پہچان لیا اور بتایا کہ یہ اُن کا چھ سال پہلے گم ہونے والا بیٹا عرفان ہے ۔
بعد ازاں خاندان کو ایدھی ہوم ملتان آنے کی رہنمائی فراہم کی گئی۔ مکمل تصدیق، قانونی کارروائی اور عدالتی عمل کے بعد عرفان کو اُس کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ ملاقات انتہائی جذباتی تھی، چھ سال بعد ایک ماں نے اپنے بیٹے کو دوبارہ گلے لگایا۔ یہ لمحہ خوشی، سکون اور شکرگزاری سے بھرپور تھا۔ آپ مکمل ری یونین کی ویڈیو میرا پیارا کے آفیشل فیس بک پیج پر دیکھ سکتے ہیں۔شٍ
میرا پیارا کا مشن یہی ہے کہ ہر گمشدہ بچے کو اُس کے خاندان سے ملا کر ایک محفوظ اور روشن مستقبل فراہم کیا جائے۔ آپ گمشدہ خاتون عائشہ کی ری یونیفیکیشن داستان پڑھ سکتے ہیں، جو 5 سال کی طویل جدائی کے بعد اپنے خاندان سے دوبارہ مل گئیں۔