الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت کام کرنے والے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی کاوشوں سے پانچ سال کی طویل جدائی کے بعد ایک لاپتہ خاتون کو بحفاظت اُن کے خاندان سے ملا دیا گیا۔
مارچ 2021 میں ایک خاتون، جن کی شناخت بعد میں عائشہ کے نام سے ہوئی، نامعلوم حالات میں لاپتہ ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں وہ بستی ملوک، ضلع ملتان کے علاقے سے ملیں۔ شناخت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے ایدھی ہوم ملتان منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ دیگر لاوارث افراد کی طرح اپنے پیاروں سے دور زندگی گزار رہی تھیں۔
ان کے اہلِ خانہ اس دوران مسلسل تلاش میں رہے، امید اور بے یقینی کے درمیان وقت گزرتا رہا، مگر یقین باقی رہا کہ ایک دن وہ ضرور ملیں گی۔
اس کیس میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب میرا پیارا ملتان ٹیم نے جدید اور مؤثر انداز میں ٹریسنگ کا عمل شروع کیا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ میرا پیارا کا باقاعدہ آغاز جولائی 2024 میں ہوا۔ اس سے قبل اس سطح پر کوئی مربوط نظام موجود نہیں تھا۔ اپنے مشن کے تحت، جس کا مقصد ہر لاوارث فرد کو اُس کے خاندان تک پہنچانا ہے، میرا پیارا ٹیمیں مختلف شیلٹر ہومز کا دورہ کرتی ہیں، وہاں موجود افراد کا ڈیٹا جمع کر کے اسے ڈیجیٹل شکل دیتی ہیں، اور ایک مرکزی ڈیٹا بیس تشکیل دیتی ہیں۔ جہاں کہیں بھی کوئی لاوارث فرد ملتا ہے، اسے اس سسٹم میں شامل کر کے فوری طور پر اس کی شناخت اور بحالی کے لیے کام شروع کر دیا جاتا ہے۔
اس خاتون کے فنگر پرنٹس حاصل کیے گئے اور بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے اُن کے اہلِ خانہ تک رسائی ممکن ہوئی۔ تصدیق کے بعد خاندان نے اُن کی شناخت عائشہ کے نام سے کی، جو مارچ 2021 سے لاپتہ تھیں۔
بعد ازاں اُن کے بھائی محمد رمضان ایدھی ہوم ملتان پہنچے اور اپنی بہن سے ملاقات کی۔ پانچ سال بعد ہونے والی یہ ملاقات جذبات سے بھرپور تھی — ایک ایسا لمحہ جس میں خوشی، سکون اور شکرگزاری سب شامل تھے۔
میرا پیارا کا مشن یہی ہے کہ ہر گمشدہ اور لاوارث فرد کو محفوظ طریقے سے اُس کے خاندان تک پہنچایا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی، مربوط حکمتِ عملی اور انسانی ہمدردی کے ذریعے زندگیاں دوبارہ جوڑی جا رہی ہیں۔
آپ گمشدہ بچی کائنات کی ری یونیفیکیشن داستان پڑھ سکتے ہیں، جو 21 سال کی طویل جدائی کے بعد اپنے خاندان سے دوبارہ مل گئی۔