الحمدللہ، 2 سال کی جدائی کے بعد ایک خاتون اصمت زہرا بالآخر اپنے خاندان سے مل گئیں۔ ایک نہایت جذباتی لمحہ جو میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی مسلسل اور مؤثر کاوشوں کا نتیجہ ہے، جو پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے وژن کے تحت کام کر رہا ہے۔
یہ خاتون ابتدائی طور پر ضلع اٹک کے علاقے سے لاوارث ملی تھیں۔ وہ اپنی مکمل شناخت اور گھر کا پتہ واضح طور پر بتانے سے قاصر تھیں اور صرف اپنا نام پروین بتا رہی تھیں، جس کی وجہ سے ان کے اہلِ خانہ تک رسائی مشکل ہو گئی۔ ان کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے انہیں 10 مارچ 2025 کو ایدھی ہوم اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں 27 اپریل 2025 کو انہیں ایدھی ہوم ملتان منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ زیرِ کفالت رہیں۔
اس دوران وہ اپنے خاندان سے دور رہیں، جبکہ ان کے اہلِ خانہ مسلسل ان کی تلاش میں مصروف رہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ امید اور بے یقینی کے درمیان زندگی گزارتے رہے۔
جب یہ کیس پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے علم میں آیا تو میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر شناخت کا عمل شروع کیا۔ اپنے مشن کے تحت ٹیم نے خاتون کا مختصر انٹرویو ریکارڈ کیا اور ویڈیو میرا پیارا کے آفیشل ساشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل ہو سکے۔
یہی کوشش اس داستان کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔
ان کے بیٹے علی حسنین نے میرا پیارا کے فیس بک پیج پر ویڈیو دیکھی اور فوراً اپنی والدہ کو پہچان لیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ یہ ان کی والدہ اصمت زہرا ہیں، جو سید غلام مرتضیٰ کی اہلیہ ہیں اور دو سال سے لاپتہ تھیں۔
اس کے بعد میرا پیارا ٹیم نے مکمل تصدیقی عمل شروع کیا۔ خاندان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام قانونی اور ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد خاتون کو بحفاظت ان کے خاندان کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ ملاقات نہایت جذباتی تھی، برسوں بعد ماں اور بیٹے کی ملاقات نے آنکھوں کو اشکبار اور دلوں کو سکون سے بھر دیا۔
ایسی کامیاب داستانیں میرا پیارا کے حقیقی اثرات کو ظاہر کرتی ہیں، جس کے باعث اسے عالمی سطح پر WSIS Forum 2026 میں بھی نمایاں مقام حاصل ہوا ہے۔
میرا پیارا اسی عزم کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے کہ ہر گمشدہ فرد کو اس کے خاندان سے دوبارہ ملایا جا سکے۔
واللہ المستعان