اللہ تعالیٰ کے خاص کرم اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ماتحت کام کرنے والے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی انتھک کاوشوں کے نتیجے میں 21 سال کی طویل جدائی کے بعد ایک بیٹی کو اس کے والد سے ملا دیا گیا — ایک ایسا لمحہ جو امید، صبر اور دعاؤں کی قبولیت کی زندہ مثال ہے۔
سن 2005 میں گلگت سے ایک کمسن بچی، کائنات، اغوا ہو گئی۔ اس کم عمری میں وہ اپنے گھر، خاندان یا شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھی، جس کی وجہ سے اس کے اہلِ خانہ تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اسے کسی نے اپنے گھر میں رکھا، اس کی پرورش کی اور بعد ازاں اس کی شادی بھی کر دی گئی، مگر وہ اپنی اصل شناخت اور خاندان سے محروم رہی۔
کائنات کے دل میں ہمیشہ اپنے گھر والوں سے ملنے کی شدید خواہش موجود رہی۔ وہ ایک خاموش درد کے ساتھ زندگی گزارتی رہی، لیکن امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
دوسری طرف، اس کے اہلِ خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ چکا تھا۔ اس کی والدہ بیٹی کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کر سکیں اور انتقال کر گئیں، جبکہ اس کے والد شدید غم اور طویل انتظار کے باعث اپنی بینائی سے بھی محروم ہو گئے، مگر امید زندہ رہی۔
اس داستان میں اہم موڑ اس وقت آیا جب میرا پیارا ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی مدد سے تلاش کا عمل شروع کیا اور بالآخر کائنات کے والد کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ میرا پیارا کا باقاعدہ آغاز جولائی 2024 میں ہوا۔ اس سے قبل اس نوعیت کا کوئی مربوط اور مرکزی ڈیجیٹل نظام موجود نہیں تھا جو لاوارث اور گمشدہ بچوں کو ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے کام کر رہا ہو۔ اپنے مشن کے تحت، جس کا مقصد ہر لاوارث بچے کو اس کے گھر تک پہنچانا ہے، میرا پیارا ٹیم نے خود مختلف شیلٹر ہومز کا دورہ کیا، وہاں مقیم بچوں کا ڈیٹا جمع کیا، اور ایک مرکزی ڈیٹا بیس تشکیل دیا۔ آگاہی مہمات کے ذریعے جہاں کہیں بھی کوئی لاوارث بچہ ملتا ہے، اسے فوری طور پر اس سسٹم میں شامل کر لیا جاتا ہے اور اس کی شناخت اور بحالی کے لیے کام شروع کر دیا جاتا ہے۔
اس کیس میں ایک نہایت اہم کردار اُن کپڑوں نے ادا کیا جو کائنات نے اغوا کے وقت 21 سال قبل پہنے ہوئے تھے۔ جب ان کپڑوں کا اس کے والد کو بتایا گیا تو انہوں نے فوراً انہیں پہچان لیا، جو اس کیس میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی۔
بعد ازاں ڈی این اے ٹیسٹ، قانونی کارروائی اور عدالت کے تمام تقاضے مکمل کیے گئے، جس کے بعد کائنات کو باضابطہ طور پر اس کے والد کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ ملاقات الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے ، ایک ایسا باپ جو بینائی کھو چکا تھا مگر امید نہیں، آخرکار اپنی بیٹی کو گلے لگانے میں کامیاب ہوا۔ یہ صرف ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک خاندان کی دوبارہ تکمیل اور برسوں کی دعاؤں کی قبولیت تھی۔
میرا پیارا کا مشن واضح ہے ، کوئی بھی بچہ اپنے خاندان سے جدا نہ رہے۔
آپ گمشدہ بچی شگفتہ کی ایک اور ری یونیفیکیشن داستان پڑھ سکتے ہیں، جو 22 سال کی طویل جدائی کے بعد اپنی والدہ سے دوبارہ مل گئی۔