الحمدللہ، کرن نامی ایک بے سہارا بچی، جو 2008 سے کراچی کے ایدھی سینٹر میں مقیم تھی، بالآخر 17 طویل برس بعد میرا پیارا ٹیم کی کاوشوں سے اپنے خاندان تک پہنچ گئی۔
سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ اس معصوم بچی نے یہ برس اپنے گھر والوں سے دور کیسے گزارے۔ اسے صرف اپنا نام یاد تھا، نہ گھر کی پہچان، نہ کسی عزیز کی۔ ادھر اس کے والدین امید اور صبر کے ساتھ بیٹی کی تلاش میں برسوں کرب سہتے رہے۔
بچپن میں کرن اسلام آباد میں اپنی نانی کے گھر گئی ہوئی تھی۔ وہیں سے آئس کریم لینے نکلی اور واپسی پر راستہ بھول گئی۔ حالات نے اسے کراچی پہنچا دیا جہاں اسے ایدھی سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ اسے صرف اپنا نام اور ضلع قصور یاد تھا۔ 2008 کی فائل پر “بگری” لکھا تھا جسے وہاں کوئی سمجھ نہ سکا۔
جب پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی ٹیم لاہور سے کراچی پہنچی اور لاوارث بچوں اور خصوصی افراد کے انٹرویوز کیے، تو افسر ارسلان ظفر (رہائشی قصور) کی نظر کرن کی فائل پر پڑی۔ انہوں نے فوراً پہچان لیا کہ “بگری” قصور کا ایک گاؤں ہے۔
فیلڈ ٹیم نے فوری طور پر قصور حکام سے رابطہ کیا۔ پولیس معاونت سے خصوصی ٹیم گاؤں بگری پہنچی، جہاں کرن کے والد کا سراغ ملا۔ دستیاب معلومات سے تصدیق مکمل ہوئی، پھر کراچی ایدھی سینٹر میں موجود میرا پیارا ٹیم نے کرن کی اپنے والد سے فون پر بات کروائی۔ قانونی کارروائی کے بعد کرن بالآخر 17 برس بعد اپنے خاندان تک پہنچ گئی۔
یہ سب اللہ کے فضل سے ممکن ہوا۔ میرا پیارا کا مشن یہی ہے کہ کوئی بچہ، بزرگ یا خصوصی فرد اپنے پیاروں سے جدا نہ رہے۔ ان شاء اللہ۔
مزید ایک کامیاب داستان شمیلہ کی بھی پڑھیں، جو 15 برس بعد اپنے خاندان سے ملی