دو دہائیوں کی جدائی کے بعد آخرکار عشرت کی آنکھوں کی خوشی اور چہرے کی مسکراہٹ لوٹ آئی۔ آج وہ بالآخر اپنے پیاروں تک پہنچ چکی ہے۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کی میرا پیارا ٹیم نے بے شمار کھوئے ہوئے بچوں کو اُن کے خاندانوں تک پہنچانے کے لیے انتھک محنت کی ہے، مگر عشرت کی داستان واقعی منفرد ہے۔ یہ ایک دل کو چھو لینے والا سفر ہے جو پاکستان کے سب سے بڑے چائلڈ سیفٹی مرکز کے خلوص، لگن اور انسانی ہمدردی کو نمایاں کرتا ہے۔
20 سال پہلے خاندان سے جدا ہونے والی عشرت لاہور کے ایدھی سینٹر میں مقیم تھیں۔ الحمدللہ، ایدھی فاؤنڈیشن نے ان تمام برسوں میں ان کی دیکھ بھال اور حفاظت یقینی بنائے رکھی۔
میرا پیارا ٹیم نے عشرت سے کئی ملاقاتیں اور انٹرویوز کیے تاکہ کوئی سراغ مل سکے۔ انہیں صرف دو باتیں یاد تھیں: اپنا نام “عشرت” اور بچپن کی ایک جگہ “کالیکی”۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ نے دوسری شادی کر لی تھی اور ان کا گھر نہر کے قریب تھا۔
یہ بظاہر معمولی معلومات ہی ٹیم کے لیے قیمتی سراغ ثابت ہوئیں۔ سوشل میڈیا مہمات اور فیلڈ سرچ کے ذریعے حافظ آباد سے سیالکوٹ تک مختلف علاقوں میں تلاش کی گئی، مگر ابتدا میں کوئی کامیابی نہ ملی۔
تاہم ٹیم نے ہمت نہ ہاری۔ اللہ کے فضل سے ایک معجزہ ہوا۔ گوجرانوالہ کے علاقے کامونکی، ماری ٹھکران دی سے تعلق رکھنے والے عشرت کے بھائی نے میرا پیارا کے آفیشل پیج پر جاری ویڈیو دیکھی اور فوراً اپنی گمشدہ بہن کو پہچان لیا۔
یہ منظر آنسوؤں، کپکپاتی آوازوں اور ناقابلِ بیان جذبات سے بھرپور تھا۔ 20 سال بعد عشرت اپنے گھر والوں تک پہنچ گئیں۔ مکمل ویڈیو میرا پیارا کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ داستان یاد دہانی ہے کہ پاکستان بھر میں یتیم خانوں، شیلٹر ہومز اور فلاحی مراکز میں مقیم کئی بچے، بزرگ شہری اور ذہنی معذوری کا شکار افراد آج بھی اپنے خاندانوں تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے چائلڈ سیفٹی مرکز میرا پیارا میں ہم اپنے مشن پر ثابت قدم ہیں۔ ان شاء اللہ، ہر کھوئے ہوئے بچے کو اس کے پیاروں تک پہنچانے کا یہ سفر جاری رہے گا۔
کیونکہ میرا پیارا صرف ایک پروگرام نہیں، بلکہ ہر کھوئے ہوئے بچے کو گھر تک پہنچانے کی ایک امید ہے۔