میرا پیارا بلاگ / آرٹیکل

امید کی روشن داستان — شمیلہ کی 15 سال بعد گھر واپسی

Special Child Shumaila Reunited After 15 Years

Monday, December 1, 2025 06:09 AM

امید کی روشن داستان — شمیلہ کی 15 سال بعد گھر واپسی 

غیر یقینی حالات میں امید کی داستانیں سب سے زیادہ دلوں کو روشن کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک خوبصورت اور جذباتی داستان ہے شمیلہ کی — ایک خصوصی بچی جو پورے 15 سال بعد آخرکار اپنے والدین کے پاس پہنچ گئی۔ اس لمحے نے ہر آنکھ کو نم کر دیا اور سب کو یقین دلایا کہ اللہ کی رحمت سے ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

ایک معصوم بچی جس کی پہچان معلوم نہ تھی

سال 2010 میں کراچی کے علاقے لانڈھی میں پولیس کو ایک کمسن بچی ملی۔ وہ اٹک سے اپنے گھر والوں سے جدا ہو گئی تھی، مگر کسی طرح کراچی پہنچ گئی۔ اس کی ذہنی حالت کمزور تھی اور وہ واضح طور پر بات نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اپنا پتہ یا والدین کے بارے میں کچھ بتانے کے قابل نہیں تھی۔

اسی وجہ سے پولیس اس کے گھر والوں تک نہ پہنچ سکی اور اسے ایدھی سینٹر کراچی کے سپرد کر دیا گیا، جہاں وہ اگلے 15 سال تک پرورش پاتی رہی۔

سوچیں، ایک بچی جو یہ بھی نہ بتا سکے کہ وہ کہاں کی ہے — اس نے کتنی خاموشی کے ساتھ وقت گزارا ہوگا۔

دوسری طرف اس کے والدین تھے، جو ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ وہ تلاش کرتے، دعائیں مانگتے اور امید کو تھامے رکھتے۔ برسوں گزر گئے، لیکن ان کے دل میں یقین کی شمع بجھنے نہ پائی۔

وہ کوشش جس نے سب کچھ بدل دیا

یہ خوشگوار لمحہ ممکن ہوا پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کی انتھک محنت سے، جو اس منصوبے کے تحت کام کر رہی تھی:

“Mera Pyara – Virtual Center for Child Safety.”

بطور سب سے بڑا چائلڈ سیفٹی لاسٹ اینڈ فاؤنڈ سینٹر، میرا پیارا ٹیم نے مسلسل کوشش جاری رکھی۔ لاہور سے کراچی تک ہزاروں کلومیٹر سفر کیا گیا، ایدھی ہومز کا دورہ کیا گیا، لاوارث اور خصوصی بچوں کے انٹرویوز کیے گئے، اور ان کی ویڈیوز سرکاری سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں تاکہ خاندان انہیں پہچان سکیں۔

پھر اللہ کی مہربانی سے وہ دن آ گیا جس کا برسوں سے انتظار تھا۔

ایک دن شمیلہ کے والد نے میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو دیکھتے ہی انہوں نے فوراً اپنی بیٹی کو پہچان لیا۔ 15 سال بعد یہ لمحہ ان کی زندگی میں نئی روشنی لے آیا۔

آنسوؤں اور شکر سے بھرا منظر

جب 15 سال بعد شمیلہ اپنے والدین کے پاس پہنچی تو وہ منظر الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ آنکھوں سے آنسو جاری تھے، دل شکر سے بھر گئے تھے، اور گھر میں خوشی لوٹ آئی تھی۔

شمیلہ کے والد جذبات سے بھر کر کہنے لگے:
“ہم تو بس جلد از جلد اپنی بیٹی تک پہنچنا چاہتے تھے۔”

ان کی والدہ سجدے میں گر گئیں اور بار بار اللہ کا شکر ادا کرتی رہیں۔

وہ والدین جنہوں نے امید قائم رکھی

والدین نے بتایا کہ انہوں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ دیواروں پر پوسٹر لگائے، اخبارات میں اشتہار دیے، رکشوں پر اعلانات کروائے اور ریلوے اسٹیشنز تک تلاش کی۔

وہ روز دعا کرتے اور اللہ سے یہی مانگتے کہ ان کی بیٹی انہیں واپس مل جائے۔

والدہ نے کہا:
“ہم روز اللہ سے مانگتے تھے۔ ہمیں نہیں معلوم کون سی دعا قبول ہوئی، ہم نے تو سب کچھ مانگا تھا۔ ہمیں صرف اپنی بیٹی چاہیے تھی۔”

چونکہ شمیلہ ایک خصوصی بچی تھی، والدین کو یہ فکر بھی رہتی تھی کہ کہیں زیادہ وقت گزرنے سے وہ اپنی کمزور یادداشت کی وجہ سے انہیں یاد نہ رکھ پائے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کی محبت بھری دیکھ بھال

اس خوشی کے موقع پر فیصل ایدھی (مرحوم عبد الستار ایدھی کے صاحبزادے) کا پیغام بھی شامل تھا۔ ایدھی فاؤنڈیشن نے شمیلہ کی 15 سال تک پوری ذمہ داری اور محبت کے ساتھ دیکھ بھال کی، جیسے وہ ہزاروں دیگر بچوں کی کرتی ہے۔

اللہ پوری ایدھی ٹیم کو ان کی بے لوث خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔

میرا پیارا ٹیم کا پیغام

یہ کہانی میرا پیارا ٹیم کے اصل مقصد کو واضح کرتی ہے:

کوئی بچہ اپنے خاندان سے دور نہ رہے۔
ہر ماں کو اس کا بچہ واپس ملے۔
ہر گھر میں خوشی برقرار رہے۔

اللہ کے کرم اور میرا پیارا ٹیم کی لگن سے، شمیلہ آخرکار اپنے والدین کے پاس پہنچ گئی۔

یہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا — یہ امید، دعا اور محنت کی کامیابی تھی۔